wibiya widget

Wednesday, December 9, 2009

پی پی 6، جے یوآئی 2نشستوں پر کامیاب


گلگت(منظرشگری+نزاکت علی+تنویراحمد) گلگت بلتستان قانون سازاسمبلی کی تین ٹیکنوکریٹس اور6خواتین نشستوں پرکامیاب امیدواروں کااعلان کردیاگیا پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹیکنوکریٹس کی مخصوص نشستوں پرمطابعت شاہ اورجمیل احمد کامیاب قرارپائے جبکہ پیپلزپارٹی کی ہی خواتین نشستوں پرسعدیہ دانش ،شیریں فاطمہ ،یاسمین نظراورگل میراکامیاب قرارپائیں الیکشن کمیشن گلگت بلتستان میںمنگل کے روزچیف الیکشن کمشنررحیم نوازدرانی کی سربراہی میںایک ٹیکنوکریٹس اور2خواتین نشستوں پرجمعیت علمائے اسلام ،مسلم لیگ ق اورمسلم لیگ ن کے نامزدامیدواروں کے لئے قرعہ اندازی ہوئی جس میں جمعیت علمائے اسلام کے امیدوارمولانا سرورشاہ ٹیکنوکریٹس کی مخصوص نشست پرکامیاب قرارپائے جبکہ جمعیت علماءاسلام ہی کی مہنازولی خواتین کی نشست پرکامیاب ہوئیں اس طرح مسلم لیگ ق کی آمنہ انصاری بھی خواتین کی مخصوص نشست پرکامیاب ہوئیں اورمسلم لیگ ن کوقرعہ اندازی میں کوئی نشست نہیں ملی الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کی جانب سے ٹیکنوکریٹس اورخواتین کی مخصوص نشستوں پرکامیاب ہونے والے مختلف جماعتوں کے امیدواروں کے ناموں کے اعلان کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی گلگت بلتستان قانون سازاسمبلی میں20نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی سیاسی جماعت بن گئی ہے جبکہ جمعیت علمائے اسلام 4نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی سیاسی جماعت اورسابق حکمران جماعت مسلم لیگ ق 3نشستوں کیساتھ تیسرے نمبرپررہی ہے اس طرح گلگت بلتستان قانون سازاسمبلی کی 32نشستیں مکمل ہوگئی ہیںجبکہ  Daily K2حلقہ ایل اے 17پر22دسمبرکوالیکشن ہونگے۔


Sunday, December 6, 2009

خواتین اورٹیکنو کریٹس کی نشستوں پرپیپلزپارٹی کی نامزدگیوں کامعاملہ لٹک گیا


سکردو(وقائع نگار)قانون سازاسمبلی میںخواتین کی محضوص نشستوں اورٹیکنوکریٹس کی سیٹوں کامعاملہ پیپلزپارٹی کی مقامی قیادت کے ہاتھوں سے نکل گیا ہے انتہائی تاخیر ذرائع کے مطابق ان نشستوں پرنامزدگی کافیصلہ اب پارٹی کی ہائی کمان کرے گی پارٹی ہائی کمان کی جانب سے ملنے والی ان احکامات کے بعدپارٹی کی مقامی قیادت کوکیفیت سے چارہوگئی ہے باوثوق ذرائع کے مطابق خواتین کو33فیصدمتناسب نمائندگی کے تحت سیٹیں دینے کے فیصلے کے تحت اب ضلعی سطح پرخواتین کے انتخاب کامعاملہ ختم ہوگیا ہے ذرائع سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ پیپلزپارٹی نے سکردوسے محضوص نشست پرجس نے خواتین اورٹیکنوکریٹس کے جس سیاسی شخصیت کونامزدکیاتھا اورٹیکنوکریٹس کے واحداوریقینی امیدوارسمجھاجارہاتھااسے اب ڈراپ کیاجارہا ہے ان کی جگہ پارٹی کی ہائی کمان خود کسی دوسری شخصیت کاانتخاب کرناچاہتی ہے جبکہ یہ بھی اطلاع کے لئے سکردوکے ایک معروف صحافی کے نام پربھی سنجیدگی سے غورکیاجارہاہے بدلتی ہوئی اس نئی صورتحال کے بعد خواتین نشستوں اورٹیکنوکریٹس کے لئے مقامی سطح پرہونے والی لابنگ اوربھاگ دوڑکاسلسلہ مانندپڑگیا ہے۔
Daily K2

Friday, December 4, 2009

گلگت بلتستان میں 14اہم قوانین کے نفاذ کاحکم



گلگت(کورٹ رپورٹر)عدالت عظمیٰ(سپریم اپیلٹ کورٹ)گلگت بلتستان نے پاکستان میں نافذ 14 اہم قوانین کو گلگت بلتستان میں لاگو کرنے کا حکم صادر کر دیا آل گلگت بلتستان ورکرز یونین کی جانب سے دائر کردہ آئینی پٹیشن کی سماعت مکمل ہو جانے کے بعد چیف جسٹس محمد نواز عباسی ، جسٹس سید جعفر شاہ اور جسٹس محمد یعقوب پر مشتمل سپریم اپیلٹ کورٹ گلگت بلتستان کے فل بنچ نے یہ اہم اور تاریخی فیصلہ صادر کیا ہے جس کے تحت وفاق پاکستان کو حکم دیا گیا ہے کہ جو اہم قوانین جن میں انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ ،ورکرزویلفیئر فنڈز آرڈیننس ، ورک مین کمبنیشن ایکٹ ، پے منٹ آف ویجز ایکٹ، فیکٹریز ایکٹ فائز ایکٹ ،پرویشنل ایمپلائز، سوشل سکیورٹی ایمپلائز، اولڈ ایج بنیفٹ ایکٹ، ویسٹ پاکستان شاپس اینڈ ورکرز ویلفیئر آرڈیننس ، کمپنیز پروفٹ ایکٹ ، ایمپلائز کاسٹ آف ریلیف ایکٹ، روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز آرڈیننس ، ویسٹ پاکستان انڈسٹریل اینڈ کمرشل ایمپلائمنٹ آرڈیننس ، ورکرز آرڈیننس 1969ء، ورکرز ویلیفئرفنڈز آرڈیننس اور فنانس ایکٹ کو فوری طور گلگت بلتستان میں نافذ کیا جائے اپنے حکم نامے میں عدالت عظمیٰ (سپریم ایپلٹ کورٹ)گلگت بلتستان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام اور لیبر کے بنیادی حقوق کو تحفظ دینے کے لئے ان قوانین کا گلگت بلتستان میں نافذ کیا جانا انتہائی ناگزیر ہے عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ پاکستان بھر کی طرح گلگت بلتستان کے محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے عدالت عظمیٰ میں اس اہم اور تاریخی پٹیشن میں عدالت کی معاونت کیلئے عدالت سے خصوصی طور پر سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ عابد حسن منٹو کو طلب کیا گیاتھا جنہوں نے عدالت عالیہ میں سیر حاصل بحث کی تھی دیگر وکلاءمیں محمد عیسیٰ ایڈووکیٹ صدر سپریم اپیلٹ کورٹ بار ایسوسی ایشن منظور احمد ایڈووکیٹ صدر چیف کورٹ بار ایسوسی ایشن نے عدالت کی معاونت کی جبکہ ورکرز یونین کی جانب سے احسان علی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل
 Daily K2 اسد اللہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل آف پاکستان نے تحریری دلائل عدالت میں جمع کروائے تھے۔

مسجد پر دہشتگرد حملے میں 6 سینئر فوجی افسروں سمیت 36 افراد جاں بحق

راولپنڈی ۔ 4 دسمبر (اے پی پی) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے پریڈ لین راولپنڈی میں مسجد پر دہشتگرد حملے کے نتیجے میں 6 سینئر فوجی افسروں سمیت 36 بے گناہ افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے جن میں 17 بچے‘ 10 عام شہری اور 9 فوجی اہلکار شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر سے جمعہ کو جاری تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ اطلاعات کے مطابق چار دہشتگرد پریڈ لین راولپنڈی صدر میں آفیسرز کی رہائشی کالونی کے اندر واقع مسجد میں گھس گئے اور نمازیوں پر گرنیڈ پھینکنے کے بعد اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس اثناءمیں دو خودکش حملہ آور مسجد کے اندر داخل ہوگئے اور خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں جمعہ کی نماز ادا کرنے والے 35 نمازی جاں بحق ہوگئے۔

Thursday, December 3, 2009

حکومت ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کی کبھی اجازت نہیں دے گی ۔وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات قمرزمان کائر

اسلام آباد ۔ 3 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات قمرزمان کائرہ نے کہا ہے کہ حکومت ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کی کبھی اجازت نہیں دے گی اور وہ ملک میں آزادی صحافت کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو یہاں وائس آف امریکہ کے 4 رکنی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جس نے اپنے ڈائریکٹر ڈان فورتھ ڈبلیو آسٹن کی قیادت میں ملاقات کی۔ وزیراطلاعات نے کہا کہ حکومت نے آزاد ذرائع ابلاغ کے نصب العین کی بالادستی کے اپنے عزم کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔

Wednesday, December 2, 2009

موضع عطا آباد زیر زمین دھماکوں میں شدت،دراڑوں میں اضافہ لوگوں میں خوف ہراس

رپورٹ امجد علی رمل



موضع عطا آباد زیر زمین دھماکوں میں شدت،دراڑوں میں اضافہ لوگوں میں خوف ہراس تفصیلات کے مطابق 
آج رات عطا آباد کے لوگ رات دو بجے اپنے گھروں سے نکل کر آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہوئے زیر زمین دھماکوں اور دراڑوں میں اضافے کی وجہ سے مکانات ناقابل رہائش بننے لگیں رات کو علاقے میں لوگوں نے ازانیں دینے شروع کی اور سوئے ہوئے لوگوں کو جگا کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل کرنا شروع کردیا اج صبح حالات کے اطلاعات ملنے پر ڈپٹی کمشنر ہنزہ نگر ظفر وقار تاج اسسٹنٹ کمشنر ہنزہ ضمیر عباس کی خصوصی توجہ کی پیش نظر سلمان علی برچہ نائب تحصیلدار علی آباد ہنزہ اور محکمہ تعمیرات عامہ کے انجینئر شبیرحسین نے علاقے کا دور کیا اور علاقے کے صورت حال کے متعلق رپورٹ بناکر فوری طور پر متعلقہ حکام کو روانہ کردیا رپورٹ کے مطابق عطا آباد کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے 19 گھروں کو انتہائی خطرناک ترین قرار دیا گیا ہے اور کے علاوہ مزید 7 گھروں کو بھی ناقابل رہائش قرار دیا گیا ہے محکمہ مال کے مطابق ٹوٹل متاثرہ زمین 1038کنال ہے جو زرعی زمین ہے اس متاثرہ زمین میں ایک عدد ڑسپنسری اور ایک عدد کمیونٹی پرائمری سکول بھی واقع ہے

Tuesday, December 1, 2009

صدر زرداری کی اقتدار پرگرفت کمزور؟

اوباما انتظامیہ پاکستان میں معاملات پر صدر آصف زرداری کی کمزور ہوتی ہوئی گرفت پر انتہائی پریشان ہے اور دو اہم امریکی اخبارات نے اپنی رپورٹس میں دعویٰ کیا ہے کہ زرداری حکومت خاتمے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ زرداری کی سیاسی کمزوریاں پاک، امریکی تعلقات کے لئے اضافی خطرہ ہیں۔ اوباما انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ زرداری کی پوزیشن کمزوری کی طرف گامزن رہے گی اور اگر وہ اپنا عہدہ بچانے میں کامیاب ہوگئے تو بھی صرف علامتی صدر رہیں گے۔ فوج انہیں پسند نہیں کرتی جبکہ اپوزیشن اور اپنے وزیر اعظم کی طرف سے بھی انہیں چیلنجز درپیش ہیں۔این آر او کا قانون بھی اٹھائیس نومبر کو ختم ہوچکا ہے اور صدر کو بدعنوانی کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔اس کے ساتھ انہیں منتخب حکومت کی برطرفی اور اعلیٰ فوجی قیادت کی تقرری کے اختیارات سے محرومی کا چیلنج بھی در پیش ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے صدر کی جانب سے نیشنل کمانڈ کونسل کی سربراہی وزیراعظم کے سپرد کئے جانے کو ایک بڑا واقعہ قرار دیا اور اسے صدر زرداری کی کمزوری سے تعبیر کیا جس نے ایک طاقتور صدر کے طور پر ان کے برقرار رہنے کے حوالے سے سنجیدہ شکوک و شبہات پیدا کردیئے۔اخبار کے مطابق امریکی صدر بارک اوباما نے رواں ماہ صدر زرداری کے نام خط میں پاکستان کو اسٹریٹجک پارٹنر شپ میں توسیع کی پیشکش کی ہے جس میں اضافی فوجی اور اقتصادی تعاون کے ساتھ پاک بھارت کشیدگی میں کمی کی کوششیں بھی شامل ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ امریکا، افغانستان میں فوجی اور اقتصادی کوششوں میں اضافہ کرے گا اور اس کا افغانستان سے فوری انخلا کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ایک سینئر امریکی افسر نے بتایا کہ امریکا پاکستان کی مدد کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا اور اگر امریکا کامیاب نہ ہوسکا تو پاکستان خودبخود خطرات میں گِھر جائے گا۔صدر اوباما نے خط میں تمام شدت پسند گروہوں کے خلاف قریبی اشتراک کی ضرورت پر زور دیا ہے اور القاعدہ ، افغان طالبان ، حقانی نیٹ ورک ، لشکر طیبہ اور تحریک طالبان پاکستان کے نام لئے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے کسی بھی گروپ کے ساتھ پاکستان کا تعلق اب مزید نظر انداز نہیں کیا جاسکے گا۔خط میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، افغانستان میں فوجی اور اقتصادی کوششوں میں اضافہ کرے گا اور اس کا افغانستان سے فوری انخلاء کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔خط میں اضافی فوجی اور اقتصادی تعاون کے ساتھ پاک بھارت کشیدگی میں کمی کی کوششیں بھی شامل ہیں جبکہ خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ شدت پسندوں کو خصوصی مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کا سلسلہ جاری نہیں رہ سکتا۔ امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ جیمز جونز نے پاکستان کے دورے میں حکومتی اور فوجی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں مزید واضح پیغام دیا ہے۔ افغانستان میں استحکام کیلئے پاکستان میں کئی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، اگر پاکستان ایسا نہیں کرسکتا تو امریکا افغانستان کے ساتھ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں شدت پسندوں کے خاتمے کیلئے کوئی بھی طریقہ استعمال کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے بھی اپنی رپورٹ میں تقریباً ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کی کمزوری نے افغانستان میں درپیش مسائل کو مزید پیچیدہ کیا ہے۔ صدر زرداری اس وقت اتنے کمزور ہیں کہ ان کی حکومت ختم ہوتی نظر آرہی ہے۔صدر زرداری نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی کی سربراہی وزیر اعظم کے سپرد کردی ہے اور یہ اقدام بظاہر مواخذے یا عدالتی کارروائی سے بچنے یا کم از کم صدر کے عہدے پر فائز رہنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ سب کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں اور حقیقی خدشات موجود ہیں ، ادھر وزیر اعظم پاکستان یوسف رضاء گیلانی نے کہا ہے کہ حکومت کا سربراہ میں ہوں صدر زرداری نہیں۔

کیا صدرزرداری کی اقتدار پر گرفت واقعی کمزور ہورہی ہے ؟