اوباما انتظامیہ پاکستان میں معاملات پر صدر آصف زرداری کی کمزور ہوتی ہوئی گرفت پر انتہائی پریشان ہے اور دو اہم امریکی اخبارات نے اپنی رپورٹس میں دعویٰ کیا ہے کہ زرداری حکومت خاتمے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ زرداری کی سیاسی کمزوریاں پاک، امریکی تعلقات کے لئے اضافی خطرہ ہیں۔ اوباما انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ زرداری کی پوزیشن کمزوری کی طرف گامزن رہے گی اور اگر وہ اپنا عہدہ بچانے میں کامیاب ہوگئے تو بھی صرف علامتی صدر رہیں گے۔ فوج انہیں پسند نہیں کرتی جبکہ اپوزیشن اور اپنے وزیر اعظم کی طرف سے بھی انہیں چیلنجز درپیش ہیں۔این آر او کا قانون بھی اٹھائیس نومبر کو ختم ہوچکا ہے اور صدر کو بدعنوانی کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔اس کے ساتھ انہیں منتخب حکومت کی برطرفی اور اعلیٰ فوجی قیادت کی تقرری کے اختیارات سے محرومی کا چیلنج بھی در پیش ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے صدر کی جانب سے نیشنل کمانڈ کونسل کی سربراہی وزیراعظم کے سپرد کئے جانے کو ایک بڑا واقعہ قرار دیا اور اسے صدر زرداری کی کمزوری سے تعبیر کیا جس نے ایک طاقتور صدر کے طور پر ان کے برقرار رہنے کے حوالے سے سنجیدہ شکوک و شبہات پیدا کردیئے۔اخبار کے مطابق امریکی صدر بارک اوباما نے رواں ماہ صدر زرداری کے نام خط میں پاکستان کو اسٹریٹجک پارٹنر شپ میں توسیع کی پیشکش کی ہے جس میں اضافی فوجی اور اقتصادی تعاون کے ساتھ پاک بھارت کشیدگی میں کمی کی کوششیں بھی شامل ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ امریکا، افغانستان میں فوجی اور اقتصادی کوششوں میں اضافہ کرے گا اور اس کا افغانستان سے فوری انخلا کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ایک سینئر امریکی افسر نے بتایا کہ امریکا پاکستان کی مدد کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا اور اگر امریکا کامیاب نہ ہوسکا تو پاکستان خودبخود خطرات میں گِھر جائے گا۔صدر اوباما نے خط میں تمام شدت پسند گروہوں کے خلاف قریبی اشتراک کی ضرورت پر زور دیا ہے اور القاعدہ ، افغان طالبان ، حقانی نیٹ ورک ، لشکر طیبہ اور تحریک طالبان پاکستان کے نام لئے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے کسی بھی گروپ کے ساتھ پاکستان کا تعلق اب مزید نظر انداز نہیں کیا جاسکے گا۔خط میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، افغانستان میں فوجی اور اقتصادی کوششوں میں اضافہ کرے گا اور اس کا افغانستان سے فوری انخلاء کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔خط میں اضافی فوجی اور اقتصادی تعاون کے ساتھ پاک بھارت کشیدگی میں کمی کی کوششیں بھی شامل ہیں جبکہ خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ شدت پسندوں کو خصوصی مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کا سلسلہ جاری نہیں رہ سکتا۔ امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ جیمز جونز نے پاکستان کے دورے میں حکومتی اور فوجی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں مزید واضح پیغام دیا ہے۔ افغانستان میں استحکام کیلئے پاکستان میں کئی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، اگر پاکستان ایسا نہیں کرسکتا تو امریکا افغانستان کے ساتھ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں شدت پسندوں کے خاتمے کیلئے کوئی بھی طریقہ استعمال کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے بھی اپنی رپورٹ میں تقریباً ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کی کمزوری نے افغانستان میں درپیش مسائل کو مزید پیچیدہ کیا ہے۔ صدر زرداری اس وقت اتنے کمزور ہیں کہ ان کی حکومت ختم ہوتی نظر آرہی ہے۔صدر زرداری نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی کی سربراہی وزیر اعظم کے سپرد کردی ہے اور یہ اقدام بظاہر مواخذے یا عدالتی کارروائی سے بچنے یا کم از کم صدر کے عہدے پر فائز رہنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ سب کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں اور حقیقی خدشات موجود ہیں ، ادھر وزیر اعظم پاکستان یوسف رضاء گیلانی نے کہا ہے کہ حکومت کا سربراہ میں ہوں صدر زرداری نہیں۔
کیا صدرزرداری کی اقتدار پر گرفت واقعی کمزور ہورہی ہے ؟ |
No comments:
Post a Comment